6 دسمبر 2011 - 20:30

امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کردی ہےکہ ایران کی مسلح افواج نے اپنے ملک کی مشرقی سرحدوں پر امریکہ کا جو بغیر پائلٹ کے طیارہ مار گرایا ہے وہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئي اے کا طیارہ تھا۔

ابنا: سی این این چینل نے امریکہ کی خفیہ ایجنسی کے حکام کے حوالے سے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کی سرزمین کے اندر مار گرایا جانے والا امریکہ کا طیارہ ایک جاسوسی طیارہ تھا۔ اس ٹی وی چینل کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ اس طیارے کو جاسوسی کی کارروائی کے مشن پر روانہ کیا گيا تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے گزشتہ اتوار کے دن کہا تھا کہ مسلح افواج کے الیکٹرانک وار یونٹس نے ایران کی مشرقی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے امریکہ کے ایک بغیر پائلٹ کے طیارے کو مارگرایا ہے۔ ایران کے الیکٹرانک وار یونٹس نے امریکہ کے آر کیو ایک سو ستر ڈورن طیارے کو امریکیوں کے کنٹرول سے خارج کر کے اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

یہ طیارہ لاکہید مارٹن کمپنی نے بنایا ہے اور طالبان کی راڈار سسٹم تک رسائی نہ ہونےکے باعث افغانستان میں اس طرح کے طیارے کو کافی عرصے سے استعمال کیا جارہا تھا۔ امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہےکہ ایران کی سرزمین پر سرنگوں ہونے والا طیارہ راڈار پر نظر نہ آنے والے طیاروں میں شامل ہے جو افغانستان میں واقع امریکی فوجی اڈے سے اڑنے کے بعد ایران کی فضا میں پرواز کرنے کے بعد جاسوسی کارروائیاں انجام دیتا تھا۔ امریکی حکام نے مزید کہا ہے کہ راڈار پر نظر نہ آنے والے اس طرح کے طیارے کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کا پتہ لگانے کے بھی استعمال کیا گیا تھا۔ ان حکام کے مطابق امریکہ نے افغانستان میں طویل مدت تک رہنے اور ایران کے اندر جاسوسی کارروائياں انجام دینے کے مقصد سے شیندند کے علاقے میں اپنی ایئر بیس تعمیر کی ہے۔

دریں اثناء اخبار واشنٹگٹن پوسٹ نے بھی اس طیارے کی ٹیکنالوجی کی وضاحت کرتے ہوۓ رپورٹ دی ہے کہ اس طیارے میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے وہ یو ایس بی دو اور جیٹ طیاروں میں استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی سے ملتی جلتی ہے اور یہ ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کی ڈیزائننگ اور استعمال ہتھیاروں سے متعلق پینٹاگون کی تاریخ کا ایک مہنگا ترین منصوبہ شمار ہوتا ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک سابق افسر فیلپ جرالڈے نے بھی اس بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی اور انٹیلجنس کی صلاحیت پر تاکید کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کا طیارہ مار گرا کر واشنگٹن کو اس بات کا سبق سکھا دیا ہےکہ وہ اسے ایک کمزور ملک نہ سمجھے۔ جرالڈے نے ایران میں امریکہ کے ڈرون طیارے کے گراۓ جانے کو بہت اہم قرار دیتے ہوۓ کہا ہےکہ ایران کی فضائی حدود میں امریکہ کے بغیر پائلٹ کے طیارے کی پرواز بہت ہی جارحانہ اور خطرناک اقدام ہے۔ سی آئی اے کے اس افسر نے مزید کہا ہے کہ ایران میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی کے طیارے کی سرنگونی امریکی فوج کے لۓ اس پیغام کی حامل ہے کہ وہ احتیاط سے کام لے اور جان لے کہ ایران کی دفاعی صلاحیت امریکی حکام کے تصور سے بھی زیادہ ہے۔.............

/169